Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

کورونا کی ویکسین 2021 تک تیار نہیں ہوسکتی، عالمی ادارہ صحت

امیدیں دم توڑگئیں ، مایوسیاں بڑھ گئیں‌ :کورونا کی ویکسین 2021 تک تیار نہیں ہوسکتی، عالمی ادارہ صحت

Corona vaccine may not be ready until 2021 WHO shocks world over news World Health Organization WHO
امیدیں دم توڑگئیں ، مایوسیاں بڑھ گئیں‌ :کورونا کی ویکسین 2021 تک تیار نہیں ہوسکتی، عالمی ادارہ صحت نے خبر سناکر دنیا والوں کو ہلا کررکھ دیا ،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح کیا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے کورونا وائرس کی وبا سے بچاؤ کی ویکسین 2021 تک تیار نہیں ہوسکتی۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ حال ہی میں امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے بائیو ٹیک کمپنی موڈرینا کو تیار کردہ ویکسین کی آزمائش کے دوسرے مرحلے کی اجازت دی ہے۔ایف ڈی اے نے چند دن قبل ہی موڈرینا کو اپنی تیار کردہ ویکسین کے دوسرے آزمائشی مرحلے شروع کرنے کی اجازت دی تھی، موڈرینا وہ پہلی کمپنی تھی جس نے مارچ میں انسانوں پر اپنی ویکسین کی آزمائش شروع کی تھی۔
مذکورہ کمپنی نے ویکسین کے انسانی ٹرائل کے پہلے مرحلے کو حال ہی میں مکمل کیا تھا جس کا مقصد اس ویکسین کے محفوظ ہونے اور مقدار کے بارے میں سمجھنا تھا اور اب دوسرے مرحلے میں محققین اس کی افادیت اور مضر اثرات کو 600 افراد پر دیکھیں گے۔
امریکا کی اسی کمپنی کے علاوہ ایک اور امریکی کمپنی کا بھی انسانی ٹرائل جاری ہے جب کہ برطانیہ اور جرمنی کی کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کا انسانی ٹرائل بھی جاری ہے، تاہم باقی تینوں کمپنیوں کے یہ ابتدائی ٹرائل ہیں اور ان تمام ویکسین کے ٹرائلز مجموعی طور پر تین آزمائشی مراحل پر مشتمل ہوں گے۔
امریکی کمپنی موڈریکا کی ویکسین ایم آر این اے 1273 کا دوسرا آزمائشی مرحلہ شروع ہوتے ہی عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے، دنیا میں کوئی بھی کورونا سے بچاؤ کی ویکسین 2021 کے آخر تک سامنے نہیں آ سکتی۔
عرب نشریاتی ادارے العربیہ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ترجمان کے مطابق نئی ویکسین کی آزمائش کے تین مرحلے ہوتے ہیں، جس کے بعد مزید دو اور مرحلے بھی ہوتے ہیں اور ان تمام مراحل کو مکمل کرنے میں ڈیڑھ سال کا وقت لگ جائے گا اور یوں کوئی بھی ویکسین 2021 کے اختتام سے قبل دستیاب نہیں ہوگی۔
عالمی ادارہ صحت کے عالمی وبا کے الرٹ اور ریسپانس سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر ڈیل فشر نے امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کی آزمائش کا دوسرا اور تیسرا مرحلہ پہلے مرحلے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے اور اس میں بہت وقت لگتا ہے۔ڈاکٹر ڈیل فشر کے مطابق پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے میں بہت سارے لوگوں پر ویکسین کو آزمایا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس دوران رضاکاروں کی صحت اور ویکسین کے نتائج کو بھی مانیٹر کیا جاتا ہے جو کہ ایک تھکا دینے والا مرحلہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے عہدیدار کے مطابق پہلے اور دوسرے مرحلے کی کامیابی کے بعد ویکسین کی آزمائش کا تیسرا اور سب سے اور بڑا مرحلہ شروع ہوتا ہے اور تیسرے مرحلے میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں پر ویکسین کو آزمایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں لوگوں کو ویکسین دینے، ان کی صحت مانیٹر کرنے اور دوا کے رد عمل جانچنے میں نہ صرف بہت بڑی ٹیم اور فنڈز کی ضررت ہوتی ہے بلکہ اس میں کافی وقت بھی لگتا ہے۔
ڈاکٹر ڈیل فشر نے بتایا کہ اگر تینوں آزمائشی پروگرام کامیاب بھی گئے اور ویکسین کے نتائج بھی بہتر ثابت ہوئے تو ویکسین کا چوتھا مرحلے اس کی تیاری کا ہے جو کہ خود ایک بہت بڑا چیلنج ہے، جس کے بعد آخری مرحلہ اس ویکسین کی تقسیم اور دور دراز علاقوں تک ترسیل کا ہے اور ان سب مراحل کو طے کرنے میں ڈیڑھ سال کا وقت لگ سکتا ہے۔
انہوں نے واضح طور پر ویکسین کی دستیابی کے حوالے سے کسی مہینے یا تاریخ کا ذکر نہیں کیا، تاہم بتایا کہ اگر تمام مراحل توقعات کے مطابق طے کیے گئے تو بھی ویکسین کی فراہمی 2021 کے آخر سے قبل ناممکن ہوگی۔تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی ویکسین کے تجربے اور تحقیق کے لیے بہت سارے وسائل فراہم کرکے ٹیم ورک کے طور پر کام کیا جائے تو ایک سال کے اندر ویکسین کی دستیابی ممکن ہو سکے گی یعنی پھر بھی دنیا کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین 2021 کے وسط تک ہی مل پائے گی۔

کتا پالنے کا کیا حکم ہے؟

کتا پالنے کا کیا حکم ہے؟

سوال

کتا گھر میں پالنے سے اللہ کی رحمت نہیں آتی گھر میں؟ کیا ایسی بات ہے کہ کتا گھر میں نہیں رکھنا چاہیے؟

Kutta Palna In Islam || Ghr Main Dog Palna Kesa hai || kia Dog Kutta Palna Jaiz Hy srytv

جواب
احادیث میں کتا پالنے کی سخت ممانعت آئی ہے،  حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس گھر میں کتے ہوں یا تصاویر ہوں۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ بلا ضرورت کتا پالنے والے کے اعمال میں سے روزانہ ایک قیراط کم کر دیا جاتا ہے۔  لہذا کتوں کو گھر میں رکھنا خیر و برکت سے محرومی کا باعث ہے؛ اس لیے  شوقیہ طور پر کتے پالنے سے اجتناب بہت ضروری ہے۔

البتہ اگر کتے  کو  جانوروں اور کھیتی کی حفاظت کے لیے یا شکار کے لیے پالا جائے تو اس کی شریعت نے اجازت دی ہے۔

بخاری شریف میں ہے:

"لاتدخل الملائکة بیتًا فيه صورة ولا کلب". (البخاري، رقم: ٤۰۰۲، ۵ /۱۸، بیروت)

ترجمہ: رحمت کے فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو یا کتا۔

ترمذی شریف میں ہے:

"من اتخذ کلبًا إلاّ کلب ماشیة أو صید أو زرع انتقص من أجره کل یوم قیراط". (الترمذي، رقم: ۱٤۹، باب ما جاء من أمسك كلباً الخ)

ترجمہ: جس شخص نے جانور اور کھیتی وغیرہ کی حفاظت یا شکار کے علاوہ کسی اور مقصد سے کتا پالا، اس کے ثواب میں ہرروز ایک قیراط کم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي الأجناس: لاينبغي أن يتخذ كلباً إلا أن يخاف من اللصوص أو غيرهم". ( ٥/ ٣٦١)

لہذا شوقیہ کتے پالنا جائز نہیں ہے، البتہ حفاطت یا شکار کی نیت سے پالنا کی گنجائش ہے۔ فقط واللہ اعلم
اہلیت میں کتے سے نفرت نہیں کی جاتی تھی، کیونکہ عرب کے لوگ اپنے مخصوص تمدن کی بنا پر کتے سے بہت مانوس تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے دِل میں اس کی نفرت پیدا کرنے کے لئے حکم فرمادیا کہ جہاں کتا نظر آئے اسے مار دیا جائے، لیکن یہ حکم وقتی تھا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت کی بنا پر صرف تین مقاصد کے لئے کتا رکھنے کی اجازت دی۔ یا تو شکار کے لئے، یا غلہ اور کھیتی کے پہرے کے لئے یا ریوڑ کے پہرے کے لئے، (اگر مکان غیرمحفوظ ہو تو اس کی حفاظت کے لئے رکھنا بھی اسی حکم میں ہوگا) ان تین مقاصد کے علاوہ کتا پالنا صحیح نہیں۔ انگریزی معاشرت کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اب بھی کتے سے نفرت نہیں، حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا تعالیٰ کے فرشتوں کی ناپسندیدگی کے علاوہ بھی شوق سے کتا پالنا کوئی اچھی چیز نہیں، خدانخواستہ کسی کو کاٹ لے یا باوٴلا ہوجائے اور آدمی کو پتہ نہ ہو تو ہلاکت کا اندیشہ ہے۔ پھر اس کا لعاب اپنے اندر ایک خاص زہر رکھتا ہے، اس لئے اس کے جھوٹے برتن کو سات دفعہ دھونے اور ایک دفعہ مانجھنے کا حکم دیا گیا ہے، حالانکہ نجس برتن تو تین دفعہ دھونے سے شرعاً پاک ہوجاتا ہے۔ باقی کتا نجس العین نہیں، اگر اس کا جسم خشک ہو اور کپڑوں کو لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے
اور یہ صحیح ہے کہ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس میں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا۔ حدیث شریف میں ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک بار حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خاص وقت پر آنے کا وعدہ کیا تھا، مگر وہ مقرّرہ وقت پر نہیں آئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پریشانی ہوئی کہ جبرائیل امین تو وعدہ خلافی نہیں کرسکتے، ان کے نہ آنے کی کیا وجہ ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آپ کی چارپائی کے نیچے کتے کا ایک بچہ بیٹھا تھا، اس کو اُٹھوایا گیا، اس جگہ کو صاف کرکے وہاں چھڑکاوٴ کیا گیا، اس کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرّرہ وقت پر نہ آنے کی شکایت کی، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی چارپائی کے نیچے کتا بیٹھا تھا اور ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ (مشکوٰة باب التصاویر ص:۳
ایک مسلمان کی حیثیت سے تو ہمارے لئے یہی جواب کافی ہے کہ کتے کو اللہ تعالیٰ نے نجس پیدا کیا ہے، اس کے بعد یہ سوال کرنا کہ: ”کتا نجس کیوں ہے؟“ بالکل ایسا ہی سوال ہے کہ کہا جائے کہ: ”مرد، مرد کیوں ہے؟ عورت، عورت کیوں ہے؟ انسان، انسان کیوں ہے؟ اور کتا، کتا کیوں ہے؟“ جس طرح انسان کا انسان اور کتے کا کتا ہونا کسی دلیل کا محتاج نہیں، نہ اس میں ”کیوں“ کی گنجائش ہے، اسی طرح خالقِ فطرت کے اس بیان کے بعد کہ کتا نجس ہے، اس کا نجس ہونا بھی کسی دلیل و وضاحت کا محتاج نہیں۔ دُنیا کا کون عاقل ہوگا جسے پیشاب پاخانہ کی نجاست دلیل سے سمجھانے کی ضرورت ہو؟ لیکن دورِ جدید کے بعض وہ دانشور جن کو یہ سمجھانا بھی آج مشکل ہے کہ انسان، انسان ہے، بندر کی اولاد نہیں۔ عورت، عورت ہے، مرد نہیں، وہ اگر پیشاب کو بھی ”آبِ حیات“ اور ”داروئے شفا“ بتائیں، اور گندگی میں بھی ”وٹامن بی اور سی“ کا سراغ نکال لائیں، ان کو سمجھانا واقعی مشکل ہے۔ رہا یہ کہ: ”کتا تو وفادار جانور ہے، اس کو کیوں نجس قرار دیا گیا؟“ اس سوال کو اُٹھانے سے پہلے اس بات پر غور کرلینا چاہئے کہ کیا کسی چیز کا پاک یا ناپاک ہونا فرمانبرداری اور بے وفائی پر منحصر ہے؟ یعنی یہ اُصول کس فلسفے کی رُو سے صحیح ہے کہ جو چیز وفادار ہو وہ پاک ہوتی ہے، اور جو بے وفا ہو وہ ناپاک کہلاتی ہے؟
    اس کے علاوہ اس بات پر غور کرنا ضروری تھا کہ دُنیا کی وہ کون سی چیز ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی خوبی اور کوئی نہ کوئی فائدہ نہیں رکھا؟ کسی چیز کی صرف ایک آدھ خوبی کو دیکھ کر اس کے بارے میں آخری فیصلہ تو نہیں کیا جاسکتا۔ بلاشبہ وفاداری ایک خوبی ہے، جو کتے میں پائی جاتی ہے (اور جس سے سب سے پہلے خود انسان کو عبرت پکڑنی چاہئے تھی)، لیکن اس کی اس ایک خوبی کے مقابلے میں اس کے اندر کتنے ہی اوصاف ایسے ہیں جو اس کی نجاستِ فطرت کو نمایاں کرتے ہیں، اس کا انسان کو کاٹ کھانا، اس کا اپنی برادری سے برسرِپیکار رہنا، اس کا مردار خوری کی طرف رغبت رکھنا، گندگی کو بڑے شوق سے کھاجانا وغیرہ، ان تمام اوصاف کو ایک طرف رکھ کر اس کی وفاداری سے وزن کیجئے، آپ کو نظر آئے گا کہ کس کا پلہ بھاری ہے؟ اور یہ کہ کیا واقعتا اس کی فطرت میں نجاست ہے یا نہیں؟

          یہاں یہ واضح کردینا بھی ضروری ہے کہ جن چیزوں کو آدمی خوراک کے طور پر استعمال کرتا ہے، ان کے اثرات اس کے بدن میں منتقل ہوتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ شانہ نے پاک چیزوں کو انسان کے لئے حلال کیا ہے، اور ناپاک چیزوں کو اس کے لئے حرام کردیا ہے، تاکہ ان کے نجس اثرات اس کی ذات اور شخصیت میں منتقل نہ ہوں۔ اور اس کے اخلاق و کردار کو متأثر نہ کریں۔ خنزیر کی بے حیائی اور کتے کی نجاست خوری ایک ضرب المثل چیز ہے۔ جو قوم ان گندی چیزوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرے گی اس میں نجاست اور بے حیائی کے اثرات سرایت کریں گے، جن کا مشاہدہ آج مغرب کی سوسائٹی میں کھلی آنکھوں کیا جاسکتا ہے۔
          اسلام نے بلاضرورت کتا پالنے کی بھی ممانعت کی ہے، اس لئے کہ صحبت و رفاقت بھی اخلاق کے منتقل ہونے کا ایک موٴثر اور قوی ذریعہ ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ نیک کی صحبت و رفاقت آدمی کو نیک بناتی ہے اور بد کی رفاقت سے بدی آتی ہے۔ یہ اُصول صرف انسانوں کی صحبت و رفاقت تک محدود نہیں بلکہ جن جانوروں کے پاس آدمی رہتا ہے ان کے اخلاق بھی اس میں غیرمحسوس طور پر منتقل ہوتے ہیں۔ اسلام نہیں چاہتا کہ کتے کے اوصاف و اخلاق انسان میں منتقل ہوں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے کتا رکھنے کی ممانعت فرمادی ہے، کیونکہ کتے کی مصاحبت و رفاقت سے آدمی میں ظاہری اور نمائشی وفاداری اور باطنی نجاست و گندگی کا وصف منتقل ہوگا۔
          اور اس کا ایک سبب یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات کے مطابق کتے کے جراثیم بے حد مہلک ہوتے ہیں، اور اس کا زہر اگر آدمی کے بدن میں سرایت کرجائے تو اس سے جاں بر ہونا اَزبس مشکل ہوجاتا ہے۔ اسلام نے نہ صرف کتے کو حرام کردیا تاکہ اس کے جراثیم انسان کے بدن میں منتقل نہ ہوں بلکہ اس کی مصاحبت و رفاقت پر بھی پابندی عائد کردی، جس طرح کہ ڈاکٹر کسی مجذوم اور طاعونی مریض کے ساتھ رفاقت کی ممانعت کردیتے ہیں۔ پس یہ اسلام کا انسانیت پر بہت ہی بڑا احسان ہے کہ اس نے کتے کی پروَرِش پر پابندی لگاکر انسانیت کو اس کے مہلک اثرات سے محفوظ کردیا۔


The Flue Hindi Dubbed Movie Pisan Srimankong, Sirinda Jensen

Chaos ensues when a lethal, airborne virus infects the population of a South Korean city less than 20 kilometers from Seoul.


Director: Sung-su Kim
Writers: Young-jong Lee (screenplay), Sung-soo Kim (screenplay) | 
Stars: Hyuk Jang, Soo Ae, Roxanne Aparicio | See full cast & crew 


Movie: The Flu
Revised romanization: Gamgi
Hangul: 감기
Director: Kim Sung-Su
Writer: Lee Young-Jong, Kim Sung-Su, Park Hee-Kwon
Producer: Lim Young-Joo, Seo Jong-Hae, Jung Hoon-Tak
Cinematographer: Lee Mo-Gae
Release Date: August 14, 2013
Runtime: 121 min.
Genre: Disaster / Adventure / Mother & Daughter / Fire Fighter
Distributor: iFilm Corp.
Language: Korean
Country: South Korea

Plot Synopsis by AsianWiki Staff ©

A group of immigrants are smuggled inside a shipping container with their final destination being South Korea. Inside the container, one of the immigrants is a carrier for a lethal and highly contagious virus.

Byung-Ki (Lee Hee-Joon) and Byoung-Woo (Lee Sang-Yeob) drive to the shipping container to release the immigrants. They soon discover that all of the immigrants are dead, except for one man.

Soon, thousands of people become infected every hour by the deadly virus, which kills within 36 hours of infection. The entire suburb of Bundang is quarantined by the government in a desperate attempt to stop the virus from spreading further. Firefighter Kang Ji-Koo (Jang Hyuk) is one of those quarantined. Dr. Kim In-Hae (Soo-Ae) is one of the first responders to the outbreak of the virus. The outbreak becomes even more personal once she suspects her own daughter (Park Min-Ha) is infected by the virus. Firefighter Kang Ji-Koo and Dr. Kim In-Hae frantically work together in a race against time to find a cure.

contagion full movie,contagion hindi dubbed,flu full movie,flu full movie in hindi,flu full movie in english,movies,on outbreak,korean movies,the flu movie,flu movie,flu english subtitles,korea,corona effect,movies on corona virus,the flu full movie,the flu movie in english,the flu full movie in hindi,the flu full movie in english,감기,Gamgi,Coronavirus Pandemic

Read more Article :  Hareem Shah Latest Interview Urdu Point || Latest Pakistani News || Bhola Record with Hareem Shah

Sajal Ali & Ahad Raza Mir Getting Married || Nikah ke Video social Media par Viral

Sajal Ali & Ahad Raza Mir Getting Married || Nikah ke Video social Media par Viral

معروف اداکارہ سجل علی اداکار احد رضا میر کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ گئے، دونوں کا نکاح ابوظہبی میں ہوا

سجل علی اور احد رضا میر کی شادی کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں، وائرل تصاویر میں احد نے آف وائٹ شیروانی پہنی ہوئی ہے جبکہ تصاویر میں اُن کی پوری فیملی کو بھی دیکھا جاسکتا ہے
sajal aly and ahad raza mir weddingsajal aly and ahad raza mir weddingsajal aly and ahad raza mir weddingsajal aly and ahad raza mir wedding

وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل 



How to handle teen age love wisely by Akhter Abbas Urdu/Hindi



How to handle teen age love wisely by Akhter Abbas Urdu/Hindi

Life coach Akhter Abbas speaks here about the teen age school love .It is very important fact of our day to day life that has the tendency to effect life of our children badly Akhter Abbas is known as relationship guru had influenced thousands of his views& listen positively He shares his valuable findings in this video to help his viewers for better & balanced valuable respectful , lives by adopting and understanding basic facts of life .

How to handle teen age love wisely by Akhter Abbas Urdu/Hindi
Akhter Abbas is one of the most respected trainer, writers. He loves to help & guide his viewers & listeners just to please his Allah Almighty for a balanced & satisfied life here & hereafter .You may contact him on what’s app +923327468746 ,+923009468746 for appointments for a regular paid counseling & consultation session of one hour as well as for 5 mint free sharing on Mondays at 9 am to 10 am & your amazing true story on Tuesday at 9 to 10 am for 10 to 15 mints with him directly



personal growth, self help, inspirational, motivational video, inspiring, life changing, success coach, how to, inspiration, guidance, public speaking, life coaching, stories, success stategies, successful people, inspiring quotes, valuable person, akhter abbas