Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

Khansi Ka Gharelo Ilaajکھانسی کا گھریلو علاج

Khansi Ka Gharelo Ilaaj

کھانسی کا گھریلو علاج

Khansi Ka Gharelo Ilaaj






سردی کا موسم شروع ہوتے ہی عموماً بچوں کو نزلہ زکام اور کھانسی ہو جاتی ہے ۔بڑے بھی اس سے محفوظ نہیں رہتے ۔ذیل میں کھانسی سے نجات حاصل کرنے کے لئے چند گھریلو نسخے درج کیے جارہے ہیں ،
جن پر عمل کرنے سے فائدہ ہو گا:
ادرک
شدید کھانسی کے خاتمے کے لیے ادرک کا رس نکال لیں اور ایک چائے کا چمچہ شہد ملا کر روزانہ صبح ،دوپہر اور شام کھالیں ۔

یہ عمل تین سے پانچ روز تک کریں ۔بلغم کے اخراج کے لیے ادرک کا بہ طور غذا اور دوا دونوں صورتوں میں کھانا مفید ہے ۔کالی ،خشک وتر کھانسی میں ادرک کی چائے بھی بے حد مفید ہے ۔ایک بڑی ادرک کچل کر اسے دو پیالی پانی میں ڈال کر اُبالیں۔بعدازاں اس میں شہد اور لیموں کا رس ملا کر پییں ،انتہائی مجرب نسخہ ہے ،چند روز پینے سے ہر قسم کی کھانسی سے نجات مل جائے گی ۔

بچوں کو کھانسی ہوتو انھیں بھی ادرک کا رس شہد میں ملا کر کھلا دیں۔
سونف
سردیوں میں سینہ جکڑنے کی وجہ سے عموماً آواز بیٹھ جاتی اور شدید کھانسی ہوتی ہے ۔ایسی صورت میں ایک گلاس پانی میں دو چائے کے چمچے سونف ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیں ،جب ایک دو اُبال آجائیں تو پانی ٹھنڈا کرکے پی لیں ۔اس میں چینی اور دار چینی بھی شامل کر سکتے ہیں ۔
اسے دن میں دو تین بار پییں ۔
نزلے زکام کے علاج کے لیے ایک تولہ سونف کوٹ کر آدھ کلو پانی میں ڈال کراتنا پکائیں کہ پانی خشک ہو کر آدھا پاؤ کے قریب رہ جائے ۔
ٹھنڈا کرکے حسبِ ذائقہ چینی ملا لیں اور صبح شام پییں ۔کالی کھانسی یادمے کی صورت میں ایک تولہ سونف آدھا کلو پانی میں ڈال کر اُبالیں ۔پانی خشک ہو کر آدھا رہ جائے تو شہد ملا کر مریض کو پلائیں ،چند روز کے علاج کے بعد مکمل شفا ہو جائے گی۔
پانچ گرام سونف،تین سبز الائچی ،دو گرام سونٹھ ،دار چینی دو گرام اور خونجان 20گرام لیں ۔تمام اشیا کو دو کپ پانی میں ڈال کر اچھی طرح اُبالیں ،ٹھنڈا کرکے اس میں ایک چمچہ شہد ملا کر صبح وشام پییں۔
لونگ
کھانسی اور سردی کی وجہ سے بخار ہو جائے تو آٹھ لونگیں دو کلو پانی میں ڈال کر تیز آنچ پر اتنا پکائیں کہ پانی خشک ہو کر ایک پاؤ کے قریب رہ جائے ۔
اسے چولھے سے اتار کر دو چائے کے چمچے شکر ملا کر چھان لیں اور مریض کو گرم گرم پلائیں ۔اچھی طرح کمبل یا چادر اوڑھا کر لٹا دیں ،پسینا آکر بخار اُتر جائے گا اور سینے میں گرمی پہنچنے کے بعد کھانسی میں بھی کمی ہو جائے گی۔
دار چینی
سردی کے امراض میں اس کا کھانا بہت مفید ہے ۔زکام اور کھانسی سے محفوظ رہنے کے لیے قہوے میں ادرک اور دار چینی ملا کر پییں ۔
دار چینی کا سفوف چائے کے ایک چمچے کے برابر دو پیالی کھولتے ہوئے پانی میں ڈال کربیس منٹ تک ڈھانپ کر دم دیں ۔جب جوش آجائے تو چولھے سے اتار لیں اور اس میں حسب منشا شہد ملا کر پییں ۔اسے دن میں تین مرتبہ ایک ایک پیالی پییں ، کھانسی کے علاج کے لیے بے حدمفیدہے ۔
لہسن
ماضی میں بزرگ خواتین کھانسی اور سینہ جکڑنے کی صورت میں لہسن کے ایک دو جوئے سبز یا سرخ مرچ اور نمک کے ساتھ کھلایا کرتی تھیں ،اس سے بلغم خارج ہو کر سینہ صاف ہو جاتا تھا ،جس کی وجہ سے کھانسی بھی ختم ہو جاتی تھی ۔
دس جوئے لہسن پیس کر شہد میں ملا کر کھانے سے بھی کھانسی ختم ہو جاتی ہے ۔نزلہ زکام اور کھانسی میں روزانہ لہسن کے چار سے آٹھ جوئے کچے کھانا بہت مفید ہے ۔اس کی چائے بنا کر بھی پییں ۔چائے بنانے کے لیے لہسن کے پانچ سے دس جوئے پیس کر ڈیڑھ کپ پانی میں پانچ منٹ تک اُبالیں ،اس کے بعد چھان کر پی لیں ۔ذائقے کو بہتر کرنے کے لیے اس میں تھوڑا سا شہد یا ادرک بھی شامل کرلیں ،بے حد فائدہ مند چائے ہے۔

انگور
اگر شدید کھانسی کی وجہ سے پریشان ہوں تو ایک پیالی انگور کے رس میں ایک چائے کا چمچہ شہد ملا کر پی لیں ۔دن میں دو مرتبہ کم از کم تین روز تک متواتر پییں۔
پیاز
کالی ،خشک وبلغمی کھانسی سے شفا یابی کے لیے دو عدد بڑے سائز کی پیاز،نصف کلو دودھ اور ایک کھانے کا چمچہ شہد لیں ۔پیاز چھیل کر چھلکے اتار لیں ۔دودھ کو کسی برتن میں ڈال کر گرم کریں اور اُس میں چھلی ہوئی پیاز ڈال دیں ۔
تھوڑی دیر بعد اسے چولھے سے اتار کر ٹھنڈا کرلیں ۔بعدازاں ایک کپ میں ڈال کر اس میں شہد ملا لیں ۔پیاز کھا کر اوپر سے دودھ پی لیں ۔
دو عدد پیاز آگ پر بھون لیں ۔جب ان کا بیرونی چھلکا جل کر کالا ہو جائے تو چھلکا اتار کر اندرونی حصہ رگڑ کر خوب باریک پیس لیں اور چھان کر اس کا پانی الگ نکال لیں ۔پھر اس میں ہم وزن شہد ملا لیں ۔یہ آمیزہ ایک چائے کا چمچہ صبح و شام پییں ۔
کھانسی میں افاقہ ہو گا۔
السی
کھانسی کے خاتمے کے لیے پچاس گرام السی کے بیجوں کو دو گلاس پانی میں ڈال کر اُبالیں اور اسے چمچے سے اس وقت تک ہلاتی رہیں ،جب تک گاڑھانہ ہو جائے۔اب اس میں ایک چائے کا چمچہ لیموں کا رس ملا کرپییں۔کالی کھانسی اور سینے میں بلغم کے اخراج کے لیے دو سے تین چائے کے چمچے السی کے بیج لیں۔
انھیں ایک کپ پانی میں ڈال کر اس وقت تک ابالیں ،جب تک پانی گاڑھانہ ہو جائے۔
پھر اس میں تین چائے کے چمچے شہد اور ایک عدد لیموں کا رس ملائیں ۔اسے صبح،دو پہر اور شام پییں ،دو سے تین دن میں افاقہ ہو گا۔
کالی مرچ
خشک اور بلغمی کھانسی سے چھٹکارے کے لیے صبح، دوپہر اور شام دو چائے کے چمچے شہد میں چار سے چھے دانے پسی ہوئی سیاہ مرچ ملا کر کھائیں ۔کالی مرچ بلغم کو حرکت میں لا کر اسے سینے سے اکھاڑ کر خارج کرتی ہے ۔بلغمی کھانسی میں کالی مرچ کی چائے بھی تیربہ ہدف نسخہ ہے۔ایک چائے کا چمچہ پسی ہوئی کالی مرچ اور دو چائے کے چمچوں کے برابر شہد ڈیڑھ کپ پانی میں ڈال کر اُبالیں ،جب اچھی طرح اُبل جائے تو اسے اتار کر پندرہ منٹ تک ڈھانپ کر رکھ دیں ۔پھر اسے چائے کی طرح پی لیں ۔یہ کھانسی کے خاتمے کے لیے بہترین نسخہ ہے ،لیکن خشک کھانسی میں اسے نہ پییں


https://www.urdupoint.com/health/article/cough-and-throat-infection/khansi-ka-gharelo-ilaaj-1488.html

Mosam E Sarma Mein Jild Ki Hifazatموسمِ سرما میں جِلد کی حفاظت

Mosam E Sarma Mein Jild Ki Hifazat


موسمِ سرما میں جِلد کی حفاظت

Mosam E Sarma Mein Jild Ki Hifazat



سر دی کے مہینوں میں خواتین اپنی جِلد کی حفاظت کے لیے بہت فکر مند ہو جاتی ہیں ۔ان میں سے بہت سی خواتین پہلی بارنمی پیدا کرنے والی کریم (MOISTURIZER)کا استعمال یہ سمجھ کر شروع کر دیتی ہیں کہ انھوں نے مسئلے کا حل پا لیا ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ موسم کوئی سا بھی ہو ،جِلد کی مناسب حفاظت کے لیے محض نمی پیدا کرنے والی کریم پر انحصار کر لینا کافی نہیں ہوتا ۔


جِلدکی صحیح معنوں میں حفاظت کے لیے آپ کو معمول بنانا پڑے گا۔اچھی بات یہ ہے کہ اس معمول میں جوآسان طریقوں پر مشتمل ہے ،صرف پانچ منٹ صَرف ہوتے ہیں اور اگر آپ نے ایسی مصنوعات کا انتخاب کیا ہے ،جو معیاری ہیں اور آپ کی جِلد کے لیے موزوں بھی ،تو اس کے نتائج فوری طور پر نظر آنے لگیں گے۔


چہرے کی بہتری کے لیے جوکچھ بھی کیاجائے ،وہ اگر سونے سے کچھ پہلے ہوتو یہ بہترین وقت ہوتا ہے ،کیوں کہ آپ اپنی جِلد کو میک اپ اور دن بھر میں ماحول سے جِلد پر جمع ہونے والی تمام آلود گیوں سے صاف کرسکتی ہیں ۔

اس کام کے لیے آپ کپڑے کے ایک صاف ٹکڑے کو گرم پانی میں ڈبو کر اپنے چہرے کے اتنے قریب لائیں کہ اس میں سے نکلتی ہوئی بھاپ چہرے کی جِلد میں پیو ست ہو کر مساموں کو کھول دے۔یہ عمل ڈیڑھ منٹ تک جاری رکھیں ۔
جب مسامات کھل جائیں تو گرم پانی سے اپنے چہرے اور گردن کو دھوئیں ۔جِلد کی صفائی کی کسی کریم میں تھوڑا ساپانی ملا کر اسے اپنے بھیگے ہوئے چہرے پر ملیں ۔
اب اپنی انگلیوں یا ایک نرم برش سے چہرے اور گردن پر گو لائی میں ۳۰سیکنڈ تک مالش کریں ۔پھر چہرے اور گردن کو نیم گرم پانی سے دھو کر تو لیے سے خشک کرلیں ۔بہتر ہو گا کہ صابن کے بجائے چہرے کو صاف کرنے کے لیے کوئی ایسی کریم استعمال کریں ،جو آپ کی جِلد کے لیے موزوں ہو۔آنکھوں کے گرد کی جِلد نازک ہوتی ہے ،اس لیے اس کی صفائی بڑی احتیاط سے کریں ۔

صاف سوتی کپڑے کے ایک ٹکڑے کو گیلا کریں اور اس سے چہرے کو اچھی طرح صاف کر لیں ۔اب آپ کی جِلد نمی پیدا کرنے والی کریم کے استعمال کے لیے تیار ہے ۔
اب آپ منتخب کردہ نمی پیدا کرنے والی کریم اپنے چہرے اور گردن پر لگائیں ۔چوں کہ آپ کی جِلد اچھی طرح صاف ہو چکی ہے ،اس لیے اس وقت یہ کریم پوری طرح اپنا کام دکھائے گی ۔اب آپ اطمینان کی نیند سو سکتی ہیں ،کیوں کہ آپ وہ سب کچھ کر چکی ہیں ،جو آپ کی جِلد کی حفاظت کے لیے ضروری تھا۔
یاد رکھیے جِلد کی حفاظت کا کوئی بھی طریقہ کا ر صرف اسی وقت درست نتائج دے سکے گا،جب اس پر پابندی کے ساتھ عمل کریں گی۔اگر آپ مذکورہ بالا طریقے اختیار کرلیں گی تو آپ کی جِلد سردی کے موسم میں تروتازہ اور شاداب رہے گی




https://www.urdupoint.com/health/article/face-and-skin/mosam-e-sarma-mein-jild-ki-hifazat-1385.html

Bawaseer Se Chhutkara Mumkinبواسیر سے چھٹکارا ممکن

Bawaseer Se Chhutkara Mumkin

بواسیر سے چھٹکارا ممکن



Bawaseer Se Chhutkara Mumkin


بواسیر دراصل مقعد (ANUS)میں پائی جانے والی خون کی رگوں کی رسولی ہے ،جو ان پر متواتر پڑنے والے خون کے دباؤ کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہے ،خاص طور پر جب یہ دباؤ پیٹ اور جسم کے نچلے حصے میں موجودخون کی رگوں پرپڑرہا ہوتو کوئی نہ کوئی رگ اس دباؤ کو برداشت نہ کرنے کی وجہ سے پھول جاتی اور مسّے کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔


مسّوں کے لحاظ سے بواسیر کی تین قسمیں ہیں :ایک اندرونی ،دوسری درمیانی اور تیسری بیرونی ۔اندرونی بواسیر میں مسّے گہرائی میں اندر کی طرف ہوتے ہیں اور انھیں عام حالت میں دیکھا یا محسوس نہیں کیا جاسکتا ۔ان میں درد یا تکلیف زیادہ نہیں ہوتی ۔یہی حالت بیرونی بواسیر میں ہوتی ہے ،مگر اس صورت میں مسّوں سے خون کا اخراج ہوتا رہتا ہے ۔

درمیانی بواسیر میں درد،سوزش اور خون کا اخراج تینوں چیزیں زیادہ ہوتی ہیں ۔


بیرونی بواسیر میں بیٹھنے ،سواری پر چڑھنے یا فضلے کی رگڑکی وجہ سے تعدیہ (انفیکشن) ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔اگر تعدیہ ہو جائے تو سوزش بڑھ جاتی اور تکلیف ودرد میں اضافہ ہوجاتا ہے اور مسّوں کو اندر کرنا دشوار ہوجاتا ہے ۔ایسے مسّے جن سے خون کا اخراج ہوتا ہے ،خونی بواسیر پیدا کرتے ہین اور وہ مسّے جن سے خون کا اخراج نہیں ہوتا ،بادی بواسیر پیدا کرتے ہیں ۔

یہ مرض عام طور پر ان لوگوں کو لا حق ہوتا ہے ،جو بہت تیز مرچ مسالوں والی غذائیں کھاتے ہیں اور روغنی و نشاستے (کاربوہائیڈریٹ ) والی ،خصوصاً میدے سے بنی ہوئی غذاؤں کے عادی ہوتے ہیں ۔یہ لوگ گوشت زیادہ کھاتے ہیں ۔سبزیاں ان کی غذا میں شامل نہیں ہوتیں اور اگر ہوتی بھی ہیں تو بہت کم مقدار میں ۔بواسیر ہونے کا ایک اہم سبب قبض ہے ۔
چوں کہ قبض کی وجہ سے مقعد میں خون کی رگوں پر مسلسل دباؤ پڑتا رہتا ہے ،لہٰذا دورانِ خون میں رکاوٹ پیدا ہو کر رگیں پُھول جاتی ہیں اور مسّے بن جاتے ہیں ۔
پھر قبض کی صورت میں سخت اور خشک فضلہ خارج ہوتا ہے ۔اس کی رگڑ اور خراش سے خون کی رگوں کے منھ کھل جاتے ہیں اور زخم پیدا ہو کر خون خارج ہونے لگتا ہے ،جو بعد میں مسّے کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔پیٹ کے کیڑے ،خاص طور پر چلونے (THREAD WORMS) بھی اس مرض کی پیدایش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
چوں کہ وہ آنت کے نچلے حصے میں ہی رہتے ہیں اور رات کو مقعد میں انڈے دینے کا سلسلہ شروع کرتے اور کاٹتے ہیں ،جس کی وجہ سے مقعد میں سخت بے چینی اور خارش ہوتی ہے۔
ان کے کاٹنے اور مریض کے کھجانے سے مقعد میں زخم ہوجاتے ہیں اور مستقل خراش رہنے سے بواسیر کاخدشہ رہتا ہے ۔بعض اوقات چوٹ لگنے ،زخم ہوجانے یا نا سوربن جانے کے بعد بھی بواسیر ہوجاتی ہے۔
بواسیر صرف قبض کی وجہ سے ہی نہیں ہوتی ،بلکہ زیادہ دنوں تک دستوں کا آنا بھی اس کے اسباب میں شامل ہے،خاص طور پر جب تیز اثرات والی ادویہ زیادہ عرصے تک کھائی جائیں یا دستوں میں ایسے تیز مادّے خارج ہورہے ہوں ،جو جلن وخراش پیدا کرتے ہیں ۔
جگر کے امراض کے نتیجے میں بھی بواسیر ہوجاتی ہے ،خصوصاً جب جگر کا فعل سست ہوجائے اور اس سے متعلقہ خون کی رگوں میں دورانِ خون سست ہو کر خون اکٹھا ہونے لگے ۔
ایسے افراد جو شراب نوشی کرتے ہوں ،وہ بھی بواسیر کے مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔کبھی یہ مرض ایک ہی خاندان کے افراد میں زیادہ دیکھنے میں آتا ہے ۔اس کی بڑی وجہ ان کی غذائی عادات اور رہن سہن کے طریقے ہوتے ہیں ۔
مثال کے طور پر بعض خاندان یا خاص علاقے کے لوگوں میں تیز مرچ مسالے کھانے کا رواج ہوتا ہے ۔بعض لوگ چکنائی اور گوشت زیادہ کھاتے ہیں ۔کچھ لوگوں کو کھیل کود اور ورزش سے دلچسپی نہیں ہوتی ۔
بعض طبقے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے ،حتیٰ کہ ان کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ انھیں زیادہ وقت بیٹھنا پڑتا ہے اور وہ ذاتی گاڑی سے ہی دفتر اور گھر آتے جاتے ہیں ،جس کی وجہ سے انھیں پیدل چلنے کے مواقع نہیں ملتے ۔

کبھی یہ مرض موروثی طور پر والدین سے بچوں میں بھی منتقل ہوجاتا ہے ۔اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عورتوں میں دورانِ حمل بواسیر کی شکایت ہوجاتی ہے ۔رحم میں بچہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے ،رحم کا دباؤ آس پاس کی خون کی رگوں پرپڑتا ہے ،جس کی وجہ سے وہاں خون رکنے لگتا ہے ۔خون کی رکاوٹ رگوں کی دیواروں پر دباؤ ڈال کر مسّے پیدا کردیتی ہے ۔اس طرح کی بواسیر اکثر بچے کی پیدایش کے بعد دور ہوجاتی ہے ،مگر کبھی کبھی یہ بعد میں بھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔

پہلے حمل میں اس کے امکانات زیاد ہوتے ہیں ،اس وقت جب بچہ غیرمعمولی طور پرتندرست ہو،جڑواں بچوں کی پیدایش متوقع ہو،ماں مٹاپے کی طرف مائل ہویا دورانِ حمل اسے شدید قبض کی شکایت رہے ۔ان لوگوں میں بھی بواسیر پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے ،جو گیلی جگہ پر بہت دیر تک بیٹھے رہیں ،استنجے کے بعد نمی دیر تک برقرار رہے اور پوری طرح سے صفائی کا خیال نہ رکھیں ۔
بعض اوقات بواسیر برسوں رہتی ہے ،مگر اس کا کوئی پتا نہیں چلتا ۔
ایسا عموماً بادی بواسیر میں ہوتا ہے ۔اس کی تشخیص اسی وقت ممکن ہوتی ہے ،جب خون خارج ہویا دردوتکلیف بہت زیادہ بڑھ جائے ۔کبھی کبھی کسی دوسرے مرض کی تشخیص کے لے ،جب آنتوں کا معائنہ کیاجاتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ بواسیر مسّے بھی موجود ہیں ۔بواسیر کی وہ اقسام ،جن میں مسّے اندرونی اور درمیانی سطح پر ہو تے ہیں ،وہ نظر نہیں آتے یا محسوس نہیں ہوتے ،اس لیے ان کی تشخیص دیر سے ہوتی ہے ۔

بواسیر ی مصّوں کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ رفع حاجت کے بعد بھی یہ احساس باقی رہتا ہے کہ ابھی پیٹ صاف نہیں ہوا اور آنتوں میں مزید فضلہ رکا ہوا ہے ۔اسی احساس کی وجہ سے مریض کو بار بار بیت الخلا جانے کی ضرورت پڑتی ہے ۔یہ مسّے جس سبب سے پیدا ہوتے ہیں ،اس کے دور ہوجانے کے بعد ٹھیک بھی ہوجاتے ہیں ،مثلاً قبض دور ہوجائے ،خون کی نچلی رگوں میں خون کا دباؤ کم ہوجائے یا روزانہ کھائی جانے والی غذاؤں کو تبدیل کرلیاجائے ،یعنی قبض ختم کرنے والی غذائیں کھائی جائیں ۔

ایسی غذائیں جو آنتوں میں تیز ابیت بڑھاتی یا خراش پیدا کرتی ہیں ،بہت کم کھائی جائیں ،مثلاً گوشت و انڈا ،گرم مسالے ،گائے وبھینس کا گوش اور سرخ مرچ وغیرہ ۔وہ غذائیں جو دیر سے ہضم ہوتی یار یاح پیدا کرتی ہیں ،وہ بھی نقصان دہ ہوتی ہیں ،اس لیے بینگن ،مسور کی دال ،اروی اور بیکری کی مصنوعات سے بھی پرہیز کرنا چاہیے ۔
اگر بیٹھے رہنے کا کام ہویا غیر فعال زندگی بسر کی جارہی ہوتو چلنے پھرنے اور ہلکی ورزش کرنے کا اہتمام کیا جائے ۔
ہاضمہ درست رکھاجائے ،خاص طور پر جگر کا فعل درست ہونا چاہیے ۔اگر اجابت کرتے وقت جلن کا یا خارش کا احساس بار بار ہونے لگے ،کبھی معمولی ساخون فضلے میں نظر آئے یا آب دست لیتے وقت کسی قسم کا دانہ دیا ورم محسوس ہوتو فوراً معالج سے رجوع کرنا چاہیے ،کیوں کہ ایسی صورت میں بواسیر کا امکان ہوتا ہے ۔
بواسیر کے مریضوں کے لیے غذائی احتیاط بہت ضروری ہے ۔
جب بھی اجابت سے فارغ ہوں تو پانی سے آب دست کے بعد صابن سے بھی اچھی طرح دھولینا چاہیے ۔پھر کسی صاف کپڑے سے پانی خشک کرکے کوئی بھی کولڈ کریم ،روغنِ بادام یا روغن زیتون لگا لیاجا ئے ۔اگر اجابت کرتے وقت بہت جلن یا تکلیف کا احسا س ہوتا تیلوں کو رفع حاجت سے قبل لگایاجا سکتا ہے ۔
روئی یا فوم سے بنائی ہوئی کرسیوں کی نشست بواسیر کے مریضوں کے لیے مضر ہوتی ہے ،خصوصاً موسم گرما میں ان کے بیدیا نواڑ سے بُنی ہوئی کرسیاں مفید رہتی ہے ۔
مقررہ وقت پر رفع حاجت کے لیے ضرور جانا چاہیے ۔حاجت کا احسا س ہورہا ہویا نہیں، ایسے مریضوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ صبح وشام دو وقت فرع حاجت کی عادت ڈالیں ۔
سونے سے قبل چاے کا ایک بڑا چمچہ اسپغول پانی میں مل کر نوش کرنا چاہیے ۔چاے کے دو چھوٹے روغنِ بادام یا روغنِ زیتون بھی نیم گرم دودھ میں ملا کر سونے سے پہلے پیا جا سکتا ہے ،لیکن چکنائی کا زیادہ عرصے تک کھانا جگر کو نقصان پہنچا تا ہے ،اس کا خیال رکھنا چاہیے۔

بواسیر کے علاج میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ جیسے ہی مسّوں سے خون جاری ہو،اسے فوراً بند نہیں کرنا چاہیے ،اس لیے کہ ایک تو خون کے اخراج سے مسّوں کا تناؤ کم ہو کر تکلیف میں کمی آجاتی ہے ،دوسرے ابتدا میں جو خون خارج ہوتا ہے ،وہ مسّوں میں رکا ہونے کی وجہ سے فاسد ہوتا ہے اور اس کا خارج ہوجانا ہی بہتر ہے ۔
اگر مریض بہت کم زور ہویا خون کی کمی کی علامات نمایاں ہوں تو پھر خون کے بند کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ۔
بواسیر کے علاج میں پہلے ادویہ کے ذریعے پوری کوشش کرنی چاہیے کہ مرض پر قابو پایا جائے ۔انتہائی مجبوری کی حالت میں آپریشن کرانا چاہیے ،اس لیے کہ ادویہ سے اس کے ٹھیک ہوجانے کا زیادہ امکان ہوتا ہے ۔جب دواؤں سے مرض ختم ہوجاتا ہے تو اس کے اسباب کا بھی علاج ہوجاتا ہے ۔اس طرح اس کے دوبارہ پیدا ہونے کا امکان بھی کم ہوجاتا ہے ۔
طبِ یونانی میں اس مرض کے علاج کے لیے اچھی دوائیں دستیاب ہیں ۔
مفید غذاؤں میں مولی ،مولی کے پتے ،چولائی کا ساگ اور بتھوے کا ساگ وغیرہ شامل ہیں ۔ان سے قبض بھی نہیں رہتا اور ضائع شدہ خون دوبارہ بن جاتا ہے ۔
آپریشن سے پہلے مریض کو خاص قسم کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں ،مثلاً اگر بواسیر جگر کی وجہ سے ہوتو جگر
سے متعلق ٹیکے لگائے جاتے ہیں ۔مختصر اً غذائی تبدیلی اور مناسب حفاظتی تدابیر اختیار کرکے اس مرض سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے ۔

https://www.urdupoint.com/health/article/piles/bawaseer-se-chhutkara-mumkin-1401.html

چھے عادتیں اپنائیے،مٹاپے کو دور بھگائیےChay Adatain Apnayie Motape Ko Door Bahgiye

چھے عادتیں اپنائیے،مٹاپے کو دور بھگائیےChay Adatain Apnayie Motape Ko Door BahgiyeChay Adatain Apnayie Motape Ko Door Bahgiyeماہرین صحت کا کہنا ہے کہ آپ مٹاپے اور اس سے وابستہ بیماریاں ،مثلاً ذیابیطس ،ہائی بلڈ پریشر اور ہارمونوں کی خرابی سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی عادتیں اور طرزِ زندگی کو تبدیل کرنا پڑے گا۔تمبا کو نوشی ترک کر دیجیے اور مناسب غذائیں مناسب وقت پر کھائیں ۔مناسب غذا سے مراد ہے متوازن غذا۔ذیل میں طرزِ زندگی کی تبدیلی سے متعلق مفید معلومات دی جارہی ہیں ،جو آ پ کے لیے قابلِ عمل ہیں ۔صحت بخش غذائیں کھائیے
متوازن اور صحت بخش غذا سے مراد ہے نشاستے ،لحمیات (پروٹینز)اور کم چکنائی والی غذائیں ،جن میں پھل ،سبزیاں ،بغیر چھنے آٹے کی روٹی ،پھلیاں ،کم چکنائی والا دودھ ،دہی اور گری دار میوے شامل ہیں ۔غذائیں کھاتے وقت یہ خیال رکھیے کہ آپ کو ان سے معدنیات (منرلز)،حیاتین (وٹامنز)،مانع تکسید اجزا (ANTIOXIDANTS)اور ریشہ حاصل ہوتا رہے۔

صحیح وقت پر کھائیے
صبح آپ کو عمدہ ناشتا کرنا چاہیے ،۸گھنٹے کی نیند لینے کے بعد جب آپ بیدار ہوتے ہیں تو آپ کے اعصاب ڈھیلے پڑ چکے ہوتے ہیں اور آپ کو بھوک لگ رہی ہوتی ہے ،کیوں کہ رات کے کھانے کے بعد آپ نے کچھ نہیں کھایا ہوتا۔
جب آپ صحت بخش ناشتا کرتے ہیں تو اعصاب کو تقویت مل جاتی ہے ۔پھر آپ کو دوپہر میں اضافی حراروں (کیلوریز)کی ضرورت نہیں پڑتی ،بلکہ ہلکی پھلکی اشیا ،مثلاً دلیا،دودھ،شہد اور گری دار میوہ آپ کے لیے کافی ہوتا ہے ۔
دو پہر کے وقت آپ کوئی پھل ،تھوڑا ساگری دار میوہ اور حبئی (OATMEAL)کھالیں تو یہ آپ کی جسمانی ضرورت کے لیے کافی ہے ۔
ورزش سے پہلے
اگر آپ ورزش کرتے ہیں اور اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ورزش کرنے سے پیشتر پھل،گری دار میوے اور انڈے کھائیں ۔
ورزش کے بعد
ورزش کرنے کے بعد آپ کے عضلات تھک جاتے ہیں اور آپ کوکھُل کر بھوک لگنے لگتی ہے ۔
اپنی توانائی میں اضافہ کرنے کے لیے ۳۰ سے ۴۵ منٹ کے بعد پھل اور لحمیات والی غذا کھائیں۔
رات کا کھانا
اپنی مصروفیات کی بنا پر بعض افراد دن میں پیٹ بھر کر نہیں کھاپاتے ،لہٰذا رات کو انھیں بھوک پریشان کرتی ہے اور وہ کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔اس طرح سے وہ زیادہ کھابیٹھتے ہیں اور ان کے جسم میں زیادہ حرارے جمع ہوجاتے ہیں ۔اس کا اثر اگلے دن کے کھانے پر بھی پڑتا ہے اور انھیں کھٹّی ڈکاریں آنے لگتی ہیں ۔
مٹاپے سے نجات پانے کے لیے رات کو ہلکا کھانا کھائیں ،مثلاً سوپ ،سلاد ،بغیر چربی کا گوشت اور دہی وغیرہ۔
پانی خوب پییں
دن بھر میں وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں ،اس طرح ہاضمہ بہتر رہتا ہے اور جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے پاتی ۔پابندی سے پانی پینے سے ہضم وجذب کے نظام میں بہتری پیدا ہوجاتی ہے اور وزن بھی کم ہوجاتا ہے ۔

https://www.urdupoint.com/health/article/weight-loss/chay-adatain-apnayie-motape-ko-door-bahgiye-1412.html










Reerh Ki Haddi Par Dabao Bchao Kaisay Mumkin ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بچائو کیسے ممکن

Reerh Ki Haddi Par Dabao Bchao Kaisay Mumkin


ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بچائو کیسے ممکن


Reerh Ki Haddi Par Dabao Bchao Kaisay Mumkin

ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بچائو کیسے ممکن




گردن اور ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ سے بچاؤ کے لئے ممکن ہے ؟
ہمیں تشویش اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ بچے جو دن بھر فون استعمال کرتے رہتے ہیں انہیں ان مسائل کا ادراک ہے بھی یا نہیں ہے ۔بیشتر آرتھو پیڈک سر جنز کہتے ہیں کہ فون استعمال کرتے وقت ضرور تا نیچے دیکھا جا تا ہے ۔یہ نظر سر سری نہیں ہو سکتی کیونکہ جب آپ کوئی میسج ٹیکسٹ کرنے کا مرحلہ عبور کررہے ہوتے ہیں ۔

اس وقت آپ کی گردن اس حد تک جھکی ہوتی ہے جتنی کمپیوٹر پر آن لائن براؤزنگ کرتے ہوئے یا ویڈیو دیکھتے ہوئے نہیں جھکتی ۔عا م طور پر لوگ اپنی گردن تقریباََ 45ڈگری کے زاوئیے پر رکھتے ہیں اور کھڑے رہنے کے مقابلے میں جب وہ بیٹھے ہوتے ہیں تو ان کی گردن مزید خراب پوزیشن میں ہوتی ہے ۔
اگر گردن کو زیادہ موڑ کر رکھا جائے تو ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بتد ریج بڑھتا جاتا ہے اگر جھکے بغیر سامنے کی جانب دیکھا جائے تو اس وقت سر کاوزن تقریباََ10سے 12پونڈ ہوتا ہے ۔

اگر گردن کو 25ڈگری کی حد تک موڑا جائے تو سر کا وزن 27پونڈ تک محسوس ہوتا ہے ۔گر دن کو ہم جتنے درجے جھکاتے رہتے ہیں ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بڑھتا جاتا ہے ۔
ڈاکٹر لین سین نے خدشہ ظاہر کیا کہ آج 8برس کے بچے بھی موبائل سے چپکے رہتے ہیں بہت ممکن ہے کہ جب وہ 28برس کی عمر تک پہنچیں تو انہیں ریڑھ کی سرجری کی ضرورت پیش آئے ۔انہوں نے مزید کہا کہ و ہ بچے جن کی ریڑھ کی ہڈی بد ستور نشوونما کے مرحلے سے گزر رہی ہوں اور پوری طرح تشکیل نہ پاسکی ہوں ،ان کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس رجحان کے باعث ان کی صحت پر کس حد تک خراب اثر پڑتا ہے یا ان کی جسمانی ساخت میں کیا تبدیلی ہو سکتی ہے ۔

Text Neck postureسے کیسے بچا جا ئے ؟
اگر لوگ ٹیکسٹنگ کے دوران سیل فونز استعما ل کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اور دونوں انگوٹھے کام میں لائیں ۔اسمارٹ فون کے استعمال سے ہٹ کران اسپائنل سر جنز نے کمپیوٹر اور ٹیبلٹس کے استعمال سے متعلق مفید مشورے بھی دےئے۔
مثال کے طور پر ایسے Standsاستعمال کئے جائیں جو ان کی آنکھوں کو اسکرین کی سیدھی میں رکھ سکے ۔
انہیں دیکھنے کے لئے گردن جھکانے کی ضرورت نہ ہو ۔
لیپ ٹاپ کے لئے بھی اس طریقہ کار کی سفارش کی ہے اور کہا ہے کہ وہ الگ کی بورڈ اور ماؤس استعمال کریں تاکہ لیپ تاپ آنکھ کی سطح کے برابر ہوا ور وہ جو کچھ ٹائپ کریں تو گردن کو آرام دم پوزیشن پر رکھنے کی کوشش کریں ۔اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کے لئے مناسب جسمانی ہےئت اختیار کرنے کی سفارش کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ اگر ہم فون کو اپنی آنکھوں کی سطح کے برابر لانے کی کوشش کریں تاکہ نیچے دیکھنے والے Postureسے محفوط رہیں تو ایسی صورت میں کاندھے دکھنے کا اندیشہ ہے کیونکہ اس وقت ہم اپنے بازو اور کاندھے اٹھائے رکھنے پر مجبور ہوں گے ۔
زیادہ عملی سفارش یہ کی جاسکتی ہے کہ اسمارٹ فون کے استعمال کے دوران اکثر و بیشتر وقفہ دیں اور کوئی ایسی ورزش کریں جس سے گردن اور کاندھوں کے پٹھے مضبوط ہوں ۔
https://www.urdupoint.com/health/article/backache/reerh-ki-haddi-par-dabao-bchao-kaisay-mumkin-1377.html

ہائی بلڈ پریشر ایک قاتل مرض


High Blood Pressure Aik Qaatil Marz



ہائی بلڈ پریشر ایک قاتل مرض

High Blood Pressure Aik Qaatil Marz

بلڈ پریشر یا خون کا دباؤ انسانی جسم میں اللہ تعالیٰ نے ایک انتہائی پیچیدہ نظام کے تحت متوازن رکھا ہوا ہے ۔آپ کا دل جو خون کو انسانی جسم میں خون کی مختلف نالیوں میں پمپ کرتا ہے اور نالیوں میں خون کا دباؤ نالیوں کی سختی پر انحصار کرتا ہے عمر کے ساتھ ساتھ اور غذا میں چکنائی کی زیادتی سے خون کی نالیوں کے سکڑنے اور پھیلنے کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے نالیوں میں تناؤ بڑھ جاتا ہے اور دل کو زیادہ زور لگانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے پریشر بڑھ جاتا ہے ۔

اس کو سمجھنے کے لئے ایک سادہ سی مثال اگر آپ گھر میں پودوں وغیرہ کو پانی دینے کے لئے ربر کا پائپ استعمال کریں اور اگر آپ پائپ کو دباکررکھیں گے تو پانی کی دھار پر یشر بڑھ جانے کی وجہ سے دور تک جائے گی۔

دیکھا گیا ہے کہ تقریباً 15فیصد لوگ بلند فشارِ خون کا شکار ہیں اور بہت سے لوگوں کوتو اس کا پتہ بھی نہیں چلتا ہے اور اچانک کسی معائنے کے دوران پتہ چلتا ہے کہ خون کا دباؤ زیادہ ہے ۔




آج کل کے دور میں زندگی میں تناؤ مرغن غذاؤں کی زیادتی اور ورزش کا نہ کرنا اور پیدل نہ چلنا بھی بلند فشار خون کا سبب بن رہا ہے ۔بلند فشار خون کے 80سے 90فیصد مریضوں میں اس کی وجوہات کا علم نہیں ہوتا۔لیکن دیکھا گیا ہے کہ اس کا رجحان اکثر خاندانوں میں پایاجاتا ہے ۔جس طرح ذیابیطس کا مرض ہے ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ نمک کا زیادہ استعمال بھی بلند فشار خون کا سبب بن جاتا ہے اس لئے کھانے میں نمک کا استعمال اعتدال سے کرنا چاہئے۔




بلندفشار خون کی چند ایک وجوہات
-1 خون کی بڑی نالی میں رکاوٹ جو دل سے نکلتی ہے ۔
-2 گردوں کی مختلف بیماریاں ہیں ۔
-3 انسانی جسم میں مختلف ہارمون کی کمی بیشی ۔
-4 عورتوں میں مانع حمل دواؤں کا استعمال وغیرہ۔
بلند فشار خون کی علامات 
-1 اکثر معمول کے چیک اپ کے دوران صحت مند لوگوں میں دیکھا گیا ہے ۔
-2 کچھ لوگوں میں اس کی وجہ سے نقصانات یا Side Effectsہوتے ہیں جس کی وجہ سے دل کا کام نہ کرنا یا نظر کا کمزور ہونا۔




-3 دل میں ہلکا ہلکا درد ہونا۔(انجائنا)
-4 اس کے علاوہ سر درد کا رہنا‘چکر آنا اور چڑچڑاپن بڑھ جانا۔
-5 جلدی تھک جانا اور نیند کا نہ آنا۔
-6 کنپٹیوں پر دباؤ محسوس ہونا۔
-7 بعض مریضوں میں پیشاب کا زیادہ آنا اور اکثر رات کو زیادہ پیشاب کرنا گردوں کی خرابی میں ہوتا ہے ۔
جانچ
ECG -1
-2 سینے کا ایکسرے جس سے دل کے بڑھنے کا پتہ چل سکتا ہے ۔




-3 خون میں نمکیات کی مقدار ۔
-4 خون میں چربی (Cholestrol)کی مقدار
-5 گردوں کے ٹیسٹ۔
-6 خون میں شکر کی مقدار
پیچیدگیاں (Complications)
-1 دل کا بڑھ جانا اور دل کا فیل ہونا۔
-2 سانس کا پھولنا خاص طور پر ورزش کے دوران یا رات کو سوتے میں اچانک گھبراہٹ ہونا اور سانس پھولنا۔
-3 نظر کا کمزور ہونا۔
-4 دماغ کی شریان کا پھٹنا۔
-5 فالج کا اثر زبان پر ہونا۔


یا جسم پر ہونا بے ہوشی یا دورے کی کیفیت بھی ہوسکتی ہے یہ تو تھیں چند چیدہ چیدہ علامات۔

علاج
کہتے ہیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے دوائیں تو اپنے معالج سے معائنے اور ٹیسٹوں کے بعد ہی تجویز کی جا سکتی ہیں ۔اس لئے بیماری کے علاوہ بھی ڈاکٹر سے معمول کا چیک اپ ضرورکروانا چاہئے۔خاص طور پر چالیس سال کی عمر کے بعد تو پابندی سے دل ‘بلڈ شوگر اور خون میں چربی کی مقدار کا چیک اپ پابندی سے کرواتے رہنا چاہئے ۔


چند ایک احتیاطی تدابیر درج ذیل ہیں ۔

احتیاطی تدابیر
-1 ہمیشہ پابندی سے ورزش کرتے رہنا چاہئے۔
-2 غذا میں نمک اور چکنائی کا استعمال اعتدال سے کرنا چاہئے ۔اور دیسی گھی کے بجائے تیل کا استعمال کریں ۔
-3 مناسب نیند کم از کم سات سے آٹھ گھنٹے ضرور کرنی چاہئے۔
-4 کوشش کریں غیر ضروری تناؤیا Tensionسے اجتناب کریں ۔
-5 بلڈ پریشر کی کمی نمک اور پانی کے کم پینے اور پانی کے انسانی جسم میں زیادہ اخراج سے ہوتی ہے ۔اس کیلئے مناسب مقدار میں پانی اور نمکیات کا استعمال کرنا چاہئے۔


https://www.urdupoint.com/health/article/blood-pressure/high-blood-pressure-aik-qaatil-marz-1423.html