Select Menu

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

دنیا کے ٹاپ 10 کرپٹ سیاستدان

 دنیا کےٹاپ 10 کرپٹ سیاستدان

ان بدعنوان سیاست دانوں نے مجموعی طور پر اپنی زندگیاں بدل دی ہیں 
 اور اپنے ممالک کو آئی ایم ایف کے قرضوں کے اندر خود کو دفن کرنے دیا ہے۔
نمبرون پر ہیں سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف
دنیا کے 10 کرپٹ سیاستدان


1. نواز شریف – سابق وزیر اعظم پاکستان

1. نواز شریف – سابق وزیر اعظم پاکستان


پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنے سیاسی کیریئر کے دوران اپنے وائٹ کالر کرائم اور بھاری بدعنوانی کے لیے فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں۔ انہیں دنیا کا کرپٹ ترین سیاستدان سمجھا جاتا ہے۔ ان کا نام اس وقت سامنے  آیا جب پاناما پیپرز میں ان کی آف شور کمپنیاں لیک ہوئیں۔

وہ پاکستان کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں اور ان کی مجموعی مالیت کا تخمینہ تقریباً 150 بلین ڈالر (1.4 بلین امریکی ڈالر) لگایا گیا ہے۔

1. نواز شریف – سابق وزیر اعظم پاکستان


ان کی مالیت اور کرپشن کا انکشاف اس وقت ہوا جب پاناما پیپرز لیک ہوئے جس نے ہر سیاستدان اور طاقتور لوگوں کی زندگی کو متاثر کیا۔

نوازشریف اور ان کا خاندان مجموعی طور پر پاکستان اور بیرون ملک ہر بڑے سے بڑے  کاروبار کے مالک ہے۔ وہ بڑی تعداد میں رئیل اسٹیٹ ہولڈنگز، سٹیل ملز، فیکٹریوں، رائس ملز، فلور ملز اور شوگر ملوں کے مالک ہیں جو پاکستان اور بیرون ملک واقع ہیں۔

2. ولادیمیر پوٹن – روس کے صدر

ولادیمیر پوٹن – روس کے صدر

اس لسٹ میں کوئی اور نہیں بلکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن ہیں۔ پیوٹن کو دنیا کا دوسرا سب سے بے ایمان سیاستدان سمجھا جاتا ہے۔ مزے کی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا طاقتور ترین آدمی بھی کرپٹ ترین شخص ہے۔

ولادیمیر پوٹن – روس کے صدر


تین بار روس کے وزیر اعظم منتخب ہونے والے ولادیمیر پوتن 2012 سے ملک کے صدر ہیں۔

3. سلمان بن عبدالعزیز، تیسرے (سعودی عرب کے بادشاہ)

سلمان بن عبدالعزیز، تیسرے (سعودی عرب کے بادشاہ

سلمان بن عبدالعزیز دنیا کے کرپٹ ترین سیاستدانوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے آل سعود کے سربراہ مملکت، سعودی عرب کے بادشاہ، وزیراعظم اور دو مقدس مساجد کے متولی کے طور پر اپنی قوم کی خدمت کی۔

4. آصف علی زرداری – سابق صدر پاکستان

آصف علی زرداری – سابق صدر پاکستان

یہ شخص پاکستان کی تاریخ میں ایک ذہین، چالاک اور انتہائی کرپٹ سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہے۔ آصف علی زرداری تاریخ میں سب سے بڑے کرپٹ سیاستدان ہوا کرتے تھے لیکن پاناما پیپرز کے لیک ہونے کے بعد نواز شریف نے ان کی جگہ لے لی۔

آصف علی زرداری – سابق صدر پاکستان

آصف علی زرداری پر بے نظیر بھٹو کے قتل سمیت کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے کئی الزامات ہیں،

5. نریندر مودی - ہندوستان کے وزیر اعظم

نریندر مودی - ہندوستان کے وزیر اعظم

نریندر مودی، ہندوستان کے وزیر اعظم جن پر مختلف جرائم اور بدعنوانی کے الزامات ہیں۔ نواز شریف، آصف علی زرداری، پیوٹن اور سلمان کے بعد مودی پانچویں نمبر پر ہیں۔ اس کی بدعنوانی کے علاوہ جب سے اس نے اقتدار حاصل کیا ہے مسلمانوں کی بربریت کو اعلی سطح پر پہنچا دیا مسلم فسادات کو سپورٹ کیا اور مسلمانوں میں نفرت کا بیج بویا اس کرپٹ ترین انسان نے۔

6. خلیفہ بن زاید بن سلطان النہیان - U.A.E کا بادشاہ

6. خلیفہ بن زاید بن سلطان النہیان - U.A.E کا بادشاہ

ایک اور صدر بدعنوان سیاست دان کے دربار میں آتا ہے اور وہ ہے خلیفہ بن زید بن سلطان النہیان۔

پاناما پیپرز کے مطابق انہوں نے خزانے کے غلط استعمال سے 150 ارب ڈالر کے اثاثے بنائے۔

7. ڈیوڈ کیمرون - برطانیہ کے سابق وزیر اعظم

ڈیوڈ کیمرون - برطانیہ کے سابق وزیر اعظم


ڈیوڈ کیمرون بھی دنیا کے کرپٹ ترین سیاستدان نکلے۔ ایک امیر امیر گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود ان پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں اور انہوں نے ایک آف شور کمپنی قائم کر لی ہے۔

8. کم جونگ اقوام متحدہ - شمالی کوریا کے صدر

8. کم جونگ اقوام متحدہ - شمالی کوریا کے صدر


کم جونگ یو این دنیا کے طاقتور ترین افراد میں سے ایک ہیں جو ایٹمی طاقت کے مالک ہیں اور مختلف مواقع پر امریکہ کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ لیکن وہ دنیا کے کرپٹ ترین سیاستدان بھی ہیں اور آٹھویں نمبر پر ہیں۔

9. پیٹرو پوروشینکو – یوکرین کے صدر

9. پیٹرو پوروشینکو – یوکرین کے صدر


پیٹرو اولیکسیووچ پوروشینکو یوکرین کے موجودہ صدر ہیں۔ دنیا میں، وہ یوکرین کے معاشی نظام کو تباہ کرنے والے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یوکرین احتساب بیورو کے مطابق، اس نے تین بلین ڈالر سے زیادہ کی لوٹ مار کی۔

10. سگمنڈر ڈیوڈ گنلاگسن – آئس لینڈ کے وزیر اعظم

10. سگمنڈر ڈیوڈ گنلاگسن – آئس لینڈ کے وزیر اعظم

آئس لینڈ کے کم عمر ترین وزیر اعظم کے طور پر مشہور سگمنڈر ڈیوڈ کرپشن کے گرم پانیوں میں پھنس گئے اور فہرست میں آخری نمبر پر آگئے۔ تاہم، انہوں نے 2016 میں پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔

یہ وہ سیاستدان ہیں جنہوں نے اپنے ملک کو لوٹا۔ دوسری طرف، کچھ ایسے شاہی خاندان ہیں جو اپنی قوموں کو اٹھنے اور اپنی معیشتوں کو مستحکم کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔ .

پنجابی سنگر اور اداکار گرنام بھلر کی زندگی کے بارے میں تفصیل

نیٹ میٹرنگ کیا ہے؟ صارف بجلی بیچ بھی سکے گا اور اس کے کیا فوائد ہیں

 نیٹ میٹرنگ کیسے کام کرتا ہے اور صارف اپنی اضافی بجلی بیچ کر کیسے پیسے کما سکتا ہے

نیٹ میٹرنگ کیا ہے؟ صارف بجلی بیچ بھی سکے گا اور اس کے فوائد ہیں


سولر لگوا کر  بجلی کے بل سے جان چھڑوائیں اور پیسے کمائیں


کیا کبھی کسی نے سوچا ہو گا کہ وہ بجلی جیسی اہم اور بنیادی ضرورت زندگی کو گھر پر بنا کر نہ صرف خود استعمال کر سکے گا بلکہ فاضل بجلی کو بیچ بھی سکے گا۔ جی ہاں، یہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ پاکستان میں بہت سارے لوگ یہ کام کر بھی رہے ہیں۔

آج تک آپ بجلی کا بل ادا کرتے آ رہے ہونگے لیکن حکومت نے ایک ایسی پالیسی بھی متعارف کرا رکھی ہے جس کے تحت آپ بجلی کا بل تقسیم کار کمپنیوں کو ادا کرنے کے بجائے ان سے اپنی تیار کردہ بجلی کا بل وصول بھی کر سکیں گے۔ اس سکیم کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ اس کیلئے آپ کو نہ تو کوئی علیٰحدہ جگہ کا انتظام کرنا پڑے گا نہ ہی کوئی عملہ درکار ہو گا۔ آپ کوصرف کچھ سرمایہ کاری کرنا پڑے گی۔ بجلی کمپنی آپ کے گھر یا کاروباری مقام پر سولر سسٹم نصب کرا کے دیگی۔ جس کے بعد آپ کی درخواست پرموجودہ میٹر کے بجائے ایک نیا میٹر نصب کرے گی۔ اس سکیم کو نیپرا ( نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی) کی طرف سے ”نیٹ میٹرنگ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

نیٹ میٹرنگ اصل میں ہے کیا؟

What Is Net Metering In Pakistan


 ایسے صارفین جوسولر سسٹم یا ونڈ ٹیکنالوجی سے بجلی خود پیدا کر رہے ہیں، اب وہ اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی کو متعلقہ بجلی سپلائی کمپنی کو واپس بھیج کر اس کی قیمت وصول کر سکیں گے۔ اس کام کیلئے بجلی کی سپلائی کمپنی درخواست دہندہ کے ایک سال کے بل کو دیکھتے ہوئے ان کے استعمال کی اوسط کا تعین کر کے انہیں ایک نئے بجلی میٹر کا اجراء کرے گی۔ روائتی میٹر صرف اس بجلی کا حساب رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو گرڈ سے صارف کو مہیا کی جاتی ہے جبکہ نیا میٹرآنے اور جانے والی دونوں بجلیوںکا حساب رکھنے کا حامل ہے۔جسے ”دو طرفہ میٹر‘‘ یا بائی ڈائریکشنل میٹر کہتے ہیں۔
اس سسٹم کیلئے صارف کے پاس تھری فیز میٹر کا لگا ہونا بنیادی شرط ہے۔ اس کے بعد صارف کو اپنی مطلوبہ جگہ پر نیپرا کے منظور شدہ وینڈر سے سسٹم نصب کرانا ہوتا ہے۔ سولر سسٹم کی تنصیب کے بعد آپ نیپرا کے ذیلی ادارے ”الٹرنیٹو انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ ‘‘ کو ”نیٹ میٹرنگ‘‘ کی درخواست کریں گے۔ متعلقہ کمپنی کے ماہرین معائنے اور ضابطے کی کارروائی کے بعد آپ کو دو طرفہ میٹر جاری کر دیتے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کی تنصیب کا عمل مکمل ہونے کے بعد نیپرا کی جانب سے صارف کو ایک لائسنس کا اجراء کیا جاتا ہے جس کے بعد آپ” منظور شدہ ڈسٹری بیوٹر‘‘ کی حیثیت سے فاضل بجلی متعلقہ بجلی کمپنی کو بیچ سکتے ہیں۔

نیٹ میٹرنگ سسٹم کیسے کام کرتا ہے

What Is Net Metering In Pakistan


 آپ اپنی ضرورت کے مطابق 5 کے وی،10 کے وی یا کم و بیش سسٹم لگوا سکتے ہیں۔ انورٹر دن کے وقت سورج کی روشنی سے بجلی بنائے گا جنہیں نیٹ میٹرنگ سسٹم اپنے پاس محفوظ کرتا رہے گا۔ فرض کریں آپ کا سسٹم دن بھر20 یونٹ بجلی تیار کر لیتا ہے چونکہ دن کی روشنی میں آپ کا بجلی کا استعمال انتہائی کم ہے تو آپ کی یہ بجلی آپ کے پاور گرڈ میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے اور پھر جب رات کو آپ کا استعمال شروع ہو جاتا ہے تو گرڈ میں جمع شدہ بجلی آپ کو ملنا شروع ہو جاتی ہے۔ فرض کریں کسی ماہ کے اختتام تک آپ کی بجلی کی پیداوار 500 یونٹ تھی اور آپ کا استعمال 300 یونٹ تھا تو آپ کا اگلے ماہ کا بجلی کا بل صفر تو آئے گا ہی جبکہ 200 فاضل یونٹ بجلی کمپنی کے پاس آپ کے کریڈٹ کے طور پر محفوظ ہو جائیں گے۔ اس سسٹم کو اگر آپ اپنے بنک اکاؤنٹ کی طرح ذہن میں رکھ کر دیکھیں گے تو آپ کو سمجھنا بہت آسان ہو گا۔ نیٹ میٹرنگ ایک طرح سے آپ کی بجلی کے بنک اکائونٹ کا کردار ادا کرتا ہے۔ اگر کسی ماہ آپ چاہیں گے کہ آپ کے فاضل بجلی یونٹس جو بجلی کمپنی کے پاس جمع ہیں اور کمپنی آپ کو ان یونٹس کی ادائیگی کیش کی شکل میں کر دے تو اس کیلئے آپ کوبجلی کمپنی کو مطلع کرنا ہو گا۔

ااگر آپ  نیٹ میٹرنگ لگوانا چاہتے ہیں یا آپ کو کوئی مسائل پیش آ رہے ہیں تو آپ ہماری خدمات حاصل کر سکتے ہیں

ااگر آپ  نیٹ میٹرنگ لگوانا چاہتے ہیں یا آپ کو کوئی مسائل پیش آ رہے ہیں تو آپ ہماری خدمات حاصل کر سکتے ہیں


نیٹ میٹرنگ کے فوائد

 یہ انتہائی آسان اور سادہ سسٹم ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کے بجلی کے ماہانہ بل کو صفر پر لا کر آپ کی پیدا کردہ فاضل بجلی آپ کی انکم کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کی ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ اس سسٹم کو لگوانے والا دو تین سال کے اندر اپنی سرمایہ کاری واپس وصول کر کے اگلے پچیس سال کیلئے بجلی کے بل سے آزاد ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ سسٹم کم از کم پچیس سال تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سسٹم میں لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے جھنجھٹ سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ روائتی سولر سسٹم کی صلاحیت محدود ہوتی ہے جبکہ نیٹ میٹرنگ سسٹم کے ذریعے گھر کی تمام برقی اشیاء بشمول اے سی، موٹر، فریج وغیرہ چلا سکتے ہیں۔ ایک مرتبہ یہ سسٹم لگوانے کے بعد کسی قسم کے ماہانہ، سہ ماہی یا سالانہ یا مینٹیننس چارجز نہیں ہوتے۔

نیٹ میٹرنگ سسٹم کا آغاز

نیٹ میٹرنگ سسٹم کا آغاز


: نیپرا نے 2015ء میں بجلی کے بڑھتے بحران سے نمٹنے کیلئے اس سکیم کا اجراء کیا۔ یہ تصور اگرچہ پاکستان کیلئے نیا تھا لیکن دنیا کے بیشتر ممالک میں لوگ اس سے مستفید ہو رہے ہیں، بالخصوص امریکہ کی بیشتر ریاستیں نیٹ میٹرنگ کے سسٹم سے منسلک ہو چکی ہیں۔2015ء میں جب آزمائشی طور پر اس سکیم کو متعارف کرایا گیا تو اسے خاطر خواہ پذیرائی نہ مل سکی کیونکہ یہ تصور لوگوں کیلئے نیا تھا۔ اس سے بھی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس سسٹم میں بہت ساری پیچیدگیاں حائل تھیں۔ 2018ء میں نیپرا نے ممکنہ حد تک بنیادی رکائوٹوں کو دور کر کے اس کا آغاز کیا۔
ایک طرف تو روائتی بجلی دن بدن مہنگی ہوتی جا رہی ہے دوسرا لوڈ شیڈنگ، کم وولٹیج اور ایسے ہی متعدد مسائل سے تنگ آئے لوگوں کا رجحان نیٹ میٹرنگ سسٹم کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر حکومت اس سسٹم کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو مزید سہل بنانے کے ساتھ ساتھ اس سسٹم کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کرے اور سسٹم لگانے کیلئے آسان بنیادوں پر چھوٹے چھوٹے قرضوں کا اہتمام کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس نئی ٹیکنالوجی سے مستفید نہ ہوں۔

عمران خان نے فیصل واوڈا کو پی ٹی آئی سے نکال دیا

عمران خان نے فیصل واوڈا کو پی ٹی آئی سے نکال دیا

 فیصل واوڈا کی اسلام آباد میں کی گئی پریس کانفرنس پر وضاحت کے لیے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کا جواب نہ دینے پر پارٹی رکنیت معطل،نوٹیفیکیشن جاری


عمران خان نے فیصل واوڈا کو پی ٹی آئی سے نکال دیا

پاکستان تحریک انصاف سے فیصل واوڈا کو نکال دیا گیا۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے فیصل واوڈا کی پارٹی رکنیت معطل کردی۔فیصل واوڈا کی اسلام آباد میں کی گئی پریس کانفرنس پر وضاحت کے لیے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کا جواب نہ دینے پر پارٹی رکنیت معطل کی گئی۔پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹ میں عمران خان کی جانب سےفیصل واوڈا کی پارٹی رکنیت معطل کرنے کا نوٹیفیکیشن بھی شیئر کر دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ نوٹس پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر آپ کو 26 اکتوبر کو جاری کردہ اس نوٹس کے حوالے سے جاری کیا جا رہا ہے،آپ نے مقررہ مدت کے اندر نوٹس کا جواب نہیں دیا اس لیے پارٹی سے آپ کی رکنیت معطل کی جاتی ہے۔

فیصل واوڈا نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کہا کہ مجھے لانگ مارچ خونی ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔

فیصل واوڈا کی متنازع پریس کانفرنس کے بعد نہ صرف پی ٹی آئی رہنماؤں بلکہ عمران خان کی جانب سے بھی ردعمل دیا گیا۔بعد ازاں فیصل واوڈا کی بنیادی پارٹی رکنیت بھی معطل کر دی گئی۔سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ میرے مخالف جو کرنا چاہیں کر لیں ۔میں نے ارشد شریف کیلئے جو کہا ہے اس پر کھڑا ہوں۔فیصل واوڈا نے مزید کہا میں نے اپنی پارٹی کو ایک سچا مشورہ دیا ہے، پہلے بھی کہا چکا ہوں اور آج بھی کہ رہا ہوں کہ کچھ سازشی ہمارے پر امن مارچ میں معصوم لوگوں کو بلی کا بکرا بنا سکتے ہیں،اس میں پارٹی پالیسی کے خلاف کیا ہے؟۔

پریس کانفرنس میں فیصل واوڈا نے کہا کہ لانگ مارچ میں خون ہی خون اورجنازے ہی جنازے نظر آرہے ہیں، میں اپنے معصوم پاکستانیوں کو چند لوگوں کی سازش کیلئے مرنے نہیں دوں گا، آخری وقت تک کوشش کروں گا کہ لاشوں اور خون کا کھیل بند ہو، عمران خان کو بتا چکا کہ اس سازش کے مقاصد کچھ اور ہیں۔جبکہ وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ ارشد شریف قتل کیس میں فیصل واوڈا ، عمران خان اور مراد سعید سے بھی تفتیش کی جائے گی۔

انہوں نے پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا کے بعد کسی اور شہادت کی ضرورت نہیں ہے،ان باتوں کو سنجیدہ لینا چاہیے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فیصل واوڈا کی باتوں کو پیش نظر رکھیں تو ارشد شریف معاملے کے سارے تانے بانے عمران خان کی طرف جاتے ہیں۔ فیصل واوڈا نے نے اس فیملی کو بے نقاب کر دیا،کینیا کے فارم ہاؤس کا تعلق ایسی فیملی سے بنایا جارہا ہے جن کا دبئی میں کاروبار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کرنے والا کمیشن فیصل واوڈا سے تفتیش شروع کرے جبکہ عمران خان اور مراد سعید سے بھی تفتیش کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ فیصل واوڈا کی باتیں بہت جگہوں پر اہم ہیں۔ 

ارشد شریف قتل گاڑی کی وڈیو شیر کر دی گئی

 ارشد شریف قتل: کینین صحافی نے گاڑی کی ویڈیو شیئر کردی

کینیا میں قتل ہونے والے پاکستان کے سینیئر صحافی ارشد شریف کی گاڑی کی ویڈیو مقامی صحافی نے شیئر کردیں۔

سینیئر صحافی اور اینکر ارشد شریف کو کینیا میں قتل کردیا گیا، اس حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ پولیس نے گاڑی چوری کی اطلاع پر علاقے کی ناکہ بندی کی ہوئی تھی۔


کینیا پولیس کے مطابق متوفی ارشد شریف کے ڈی جی 200 ایم میں سوار تھے، اُن کی گاڑی پولیس ناکے پر رکنے کے بجائے آگے بڑھ گئی، جس پر پولیس نے فائرنگ کی، جس میں مقتول پہلے زخمی ہوئے اور پھر دم توڑ گئے۔
کار پر 9 گولیاں فائر ہوئیں، 1 ارشد شریف کے سر میں لگی کینیا پولیس کی رپورٹ

کینیا میں حکام کے مطابق پاکستانی صحافی ارشد شریف کی پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

 کار پر 9 گولیاں فائر ہوئیں، 1 ارشد شریف کے سر میں لگی کینیا پولیس کی رپورٹ


ارشد شریف اتوار کی شب کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں مارے گئے تھے اور پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے شناخت میں غلط فہمی پر اس گاڑی پر گولیاں چلائیں جس میں ارشد شریف سوار تھے۔

کینیا میں حکام کے مطابق پاکستانی صحافی ارشد شریف کی پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔


یہ واضح نہیں کہ ارشد شریف کینیا میں کیا کر رہے تھے تاہم کینیا کی پولیس کے ترجمان برونو شیوسو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ارشد شریف کی موت کے پسِ منظر کے حالات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

کینیا کی پولیس کی جانب سے اس واقعے کی جو ابتدائی رپورٹ مگدائی پولیس سٹیشن میں جمع کروائی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف جس کار میں سفر کر رہے تھے پولیس نے اسے مسروقہ سمجھا اور جب وہ عارضی رکاوٹوں کے باوجود نہیں رکی تو اس پر فائرنگ کی گئی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس حکام نے اس رپورٹ کے اصل ہونے کی تصدیق کی ہے جس کے مطابق ’فائرنگ اور ایک غیر ملکی شہری کی موت کی اطلاع سب سے پہلے 23 اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے موصول ہوئی تھی‘۔

رپورٹ کے مطابق ’پولیس کو ابتدائی طور پر معلوم ہوا کہ فائرنگ کے ایک واقعے میں کینیا کی پولیس سروس کے دستے جنرل سروس یونٹ (جی ایس یو) کے افسران ملوث تھے اور اس کے نتیجے میں لگ بھگ 50 سالہ پاکستانی شہری ارشد شریف فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں‘۔

فائرنگ کے واقعے کی اس پولیس رپورٹ کے مطابق ارشد شریف اس کار میں سفر کر رہے تھے جس کا رجسٹریشن نمبر کے ڈی جی 200 ایم تھا۔
وہ سڑک جہاں ارشد شریف کی گاڑی پر حملہ ہوا


وہ سڑک جہاں ارشد شریف کی گاڑی پر حملہ ہوا


پاکستانی صحافی ارشد شریف کینیا میں قتل، اہل خانہ کی تصدیق

 ارشد شریف کو کینیا میں قتل کردیا گیا

پیر کی صبح ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے ایک ٹویٹ میں ان کی موت کی تصدیق کی۔

پاکستانی صحافی ارشد شریف کینیا میں قتل، اہل خانہ کی تصدیق


سینیئر صحافی اور اینکر ارشد شریف کینیا میں حادثے میں جاں بحق

فیملی ذرائع اور ساتھیوں کی جانب سےارشدشریف کی موت کی تصدیق کردی گئی، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ موت کیسے ہوئی

سینیئر صحافی اور اینکر ارشد شریف کینیا میں حادثے میں جاں بحق فیملی ذرائع اور ساتھیوں کی جانب سےارشدشریف کی موت کی تصدیق کردی گئی، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ موت کیسے ہوئی۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سینیئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کینیا میں حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔
فیملی ذرائع اور ساتھیوں کی جانب سےارشدشریف کی موت کی تصدیق کردی گئی،ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ موت کیسے ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کینیا کی مقامی پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق ارشد شریف کچھ روز پہلے دبئی سے لندن بھی گئے۔